آیاتِ میراث
علم الفرائض وہ علم ہے جس کے ذریعے ہر حقدار کو اس کا وہ شرعی حق پہنچایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے۔ یہ ایپلیکیشن وراثت کے پیچیدہ مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں آسانی سے سمجھنے اور حل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
بنیادی اصطلاحات
اصحاب الفروض
یہ وہ ورثاء ہیں جن کے حصے قرآن مجید میں مقرر کر دیے گئے ہیں۔ ان کو حصہ دینے کے بعد بچا ہوا مال عصبات کو ملتا ہے۔
ورثاء اور ان کے حصے
میراث کیلکولیٹر
ابتدائی ادائیگیاں
تقسیم کا نتیجہ
حجب کے بنیادی قواعد
| محروم کرنے والا وارث | محروم ہونے والا وارث | وضاحت |
|---|---|---|
| بیٹا | پوتا، پوتی، تمام بھائی بہن، بھتیجے، چچا | قریب کا عصبہ دور کے عصبہ کو محروم کرتا ہے۔ |
| باپ | دادا، تمام بھائی بہن، بھتیجے، چچا | باپ کی موجودگی میں یہ تمام ورثاء محروم ہو جاتے ہیں۔ |
| پوتا | پڑپوتا، تمام بھائی بہن، بھتیجے، چچا | بیٹے کی عدم موجودگی میں پوتا قائم مقام ہوتا ہے۔ |
| دادا | پڑدادا، حقیقی اور باپ شریک بھائی بہن (حنفی مسلک) | باپ کی عدم موجودگی میں دادا اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ |
| ماں | دادی، نانی | ماں کی موجودگی میں تمام جدّات محروم ہوتی ہیں۔ |
| اولاد | شوہر/بیوی کا حصہ کم ہوجاتا ہے | اسے حجبِ نقصان کہتے ہیں۔ شوہر 1/2 سے 1/4، بیوی 1/4 سے 1/8۔ |
| 2+ بھائی/بہن | ماں کا حصہ 1/3 سے 1/6 ہو جاتا ہے | بھائی بہن کی تعداد دو یا زیادہ ہو تو ماں کا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ |
فوری حساب - عام صورتیں
عام وراثت کی صورتوں کے لیے تیار شدہ ٹیمپلیٹس۔ ایک کلک میں حساب شروع کریں۔
نیوکلیئر فیملی
بیوی، 2 بیٹے، 1 بیٹی
صرف والدین
باپ، ماں
بیوی اور اولاد
بیوی، 1 بیٹا، 2 بیٹیاں
بڑا خاندان
بیوی، اولاد، والدین
صرف بہن بھائی
2 حقیقی بھائی، 1 حقیقی بہن
صرف بیٹیاں
بیوی، 3 بیٹیاں
تعلیمی مواد
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
وراثت کی تقسیم کب لازم ہوتی ہے؟
میت کی تجہیز و تکفین، قرض کی ادائیگی، اور وصیت (ایک تہائی تک) کے بعد باقی ماندہ جائیداد فوری طور پر ورثاء میں تقسیم کرنا واجب ہے۔
کیا وراثت سے محروم کیا جا سکتا ہے؟
اسلامی قانون میں وراثت کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں۔ کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی وارث کو محروم نہیں کر سکتا۔ البتہ قاتل، غیر مسلم، یا غلام وراثت سے محروم ہوتے ہیں۔
عول اور رد کیا ہے؟
عول: جب مقررہ حصوں کا مجموعہ کل
جائیداد سے زیادہ ہو جائے تو سب کے حصوں میں متناسب کمی کی جاتی ہے۔
رد: جب
حصے دینے کے بعد مال بچ جائے اور کوئی عصبہ نہ ہو تو بچا ہوا مال ورثاء (سوائے شوہر/بیوی) میں
تقسیم ہوتا ہے۔
بیٹے اور بیٹی کے حصے میں کیا فرق ہے؟
جب بیٹے اور بیٹیاں دونوں موجود ہوں تو انہیں 2:1 کے تناسب سے حصہ ملتا ہے۔ یعنی بیٹے کو بیٹی سے دوگنا ملتا ہے۔ یہ اس لیے کہ بیٹے پر خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ہے۔
قرآنی حوالہ جات
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوْلَٰدِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ ٱلْأُنثَيَيْنِ
اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ (النساء: 11)
تِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ يُدْخِلْهُ جَنَّٰتٍ
یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا۔ (النساء: 13)
عملی مثالیں
مثال 1: بیوی اور بیٹے
ورثاء: 1 بیوی، 2 بیٹے
تقسیم: بیوی کو 1/8، باقی دونوں بیٹوں میں برابر
وجہ: اولاد کی موجودگی میں بیوی کا حصہ 1/8 ہے۔
مثال 2: والدین اور بیٹیاں
ورثاء: باپ، ماں، 2 بیٹیاں
تقسیم: باپ 1/6، ماں 1/6، بیٹیاں 2/3
وجہ: اولاد کی موجودگی میں والدین کو 1/6، دو بیٹیوں کو 2/3۔